17 جولائی 2012 - 19:30

شہردبئی کےقریب جبل علی بندرگاہ کےپاس متحدہ عرب امارات کی ایک بوٹ پر امریکی فوجی بیڑےکی فائرنگ کوشایدایک اتفاقی واقعہ سمجھاجائے لیکن بہت سےتجزیہ نگاروں کاخیال ہےکہ اس واقعےکوسرسری نگاہ سےنہيں دیکھناچاہئےکیونکہ بظاہراسی محدودجھڑپ کوپہلےوسیع کوریج دی گئی حتی اس کےنتیجےمیں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ گئيں۔

ابنا: رپورٹوں کےمطابق متحدہ عرب امارات کی جبل علی بندرگاہ میں ماہی گیروں کی ایک کشتی پر امریکی جنگی بیڑےکی فائرنگ میں ایک شخص ہلاک اورتین زخمی ہوگئے۔ اس کشتی پرتین ہندوستانی اورمتحدہ عرب امارات کےچارماہی گیرسوارتھے، امریکی حکام کادعوی ہے کہ مذکورہ بوٹ امریکی بیڑےسےزیادہ قریب ہوگئي تھی ۔خلیج فارس کی اہمیت کےبہت سےاسباب ہیں ان ميں سب سےبڑا سبب اس علاقےکاتیل اورگیس کےذخائرسےمالامال ہوناہے ۔ دوسرےلفظوں میں دنیاکی گیس اورتیل کی ضرورت کوپوراکرنےکےلئےخلیج فارس سےزيادہ کسی بھی علاقےمیں ذخائرموجود نہيں ہيں جو نئی صدی میں دنیاکی انرجی کی پینسٹھ فیصدضرورت پوری کرسکیں۔اس بنا پر علاقےسےباہرکی طاقتیں جو اپنےاقتدارکی چابی انرجی کے کےذخائرپراپنےتسلط کوسمجھتی ہيں اس علاقےپرتسلط حاصل کرنےکےلئےمسلسل ایک دوسرےپرسبقت لےجارہی ہیں۔یہ رقابت برطانوی سامراج کےدور سے شروع ہوئی اورامریکہ ، یورپ ، روس اورچین نیزبرطانیہ جیسی طاقتوں کےذریعےآج تک جاری ہے۔خلیج فارس میں امریکہ کےسب سےزیادہ فوجی ہيں اوراس کاپانچواں بحری بیڑا بحرین میں تعینات ہے جبکہ غیرملکی فوجیوں بالخصوص امریکہ اوربرطانیہ کےبحری بیڑوں کی موجودگی خود علاقےمیں بدامنی کااصلی سبب ہے۔درحقیقت امریکہ بین الاقوامی قوانین کےبرخلاف بحران پیداکرکےخلیج فارس کی سلامتی کےلئےخطرہ بنا ہوا ہے ۔لیکن امریکہ کی نظرمیں اسلامی جمہوریہ ایران کےحکام کی جانب سےخلیج فارس اورآبنائےہرمز کی سیکورٹی پرشدیدتاکیداورعلاقےنیزاپنے قانونی و قومی مفادات کےدفاع کےسلسلےمیں ایران کی اسٹریٹیجی، امریکہ کےلئےریڈلائن ہے جسےوہائٹ ہاؤس کےحکام کےبقول اگرایران اسے پارکرےگاتواسے امریکہ  کےردعمل کاسامناکرناپڑےگا۔یہ موقف درحقیقت ایران سےڈرانےدھمکانے کی پالیسی کاحصہ ہے جو ایران سے ڈرانے اورعالمی نظام کےکھلاڑیوں کی روش میں تبدیلی اوراسلامی جمہوریہ ایران کوحاشیےپرلگانےکےمنصوبے کےمقصد سےانجام پارہی ہے ۔ امریکہ اور اس کےاتحادی ٹولےکی کوشش ہےکہ وہ ایران کےلئے مسلسل خطرہ بنےرہنے کی پالیسی کو اپنی ترجیحات میں برقراررکھتےہوئے تقریبابیس ملکوں کوخلیج فارس سےبارودی سرنگیں ہٹانےکی مشترکہ مشقوں جیسا منصوبہ شروع کرکے بین الاقوامی نظام کےعالمی اورعلاقائی کھلاڑیوں کو ایران کےمدمقابل لاکھڑا کرجبکہ ڈٹرنٹ پاور اوردفاعی طاقت کےمعیارکےمطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی پوزیشن بالکل واضح ہے اورایران ڈٹرنٹ اور دفاع کےمرحلےمیں کسی بھی جارح کوجواب دینےمیں ذرہ برابربھی پس وپیش نہيں کرےگا۔واضح ہےکہ آبنائےہرمزدنیاکی ایک نہایت اہم آبنائےہے جس کی خاص اہمیت کےپیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران نے اس کی حفاظت اور مستحکم سیکورٹی کےلئے کچہ مقدمات فراہم کررکھےہيں  اورعالمی کنونشن کی بنیاد پر اس علاقے میں رفت وآمد کوکنٹرول ان مقدمات کاحصہ ہے ۔ بنابرایں ان مقدمات کو کسی ملک کےخلاف دھمکی کی نگاہ سےنہيں دیکھناچاہئے۔

.......

/169